You are here: Home
DeutschEnglishFrancais
9.2.2010 : 10:00 : +0100

You are visitor No.

Mbdin counter

   Please join us!  

Our Great People

07.08.2008

Empty Promises & King Officers

Here you will find interesting and important information about Mandi Bahauddin. In District Info, you will find the overall information on the district and its 3 Tehsils. Also there is information about every village of the district. In Eduction section you will find important information about education, schools and colleges in district, and contact information. There are very beautiful pictures of this beautiful district in section picture gallery. There is a lot exciting on the website. Wish you a lot of fun on website.

whereever i live
you are always in my dreams
o mandi-bahauddin
have painted red your streets
in my teens
o mandi-bahauddin
through this page
i can see once again
all those scenes
of my past
ah mandi-bahauddin

by karim

Yeh Meri Galian, Yeh mere Kouche, Yeh mere Sheher ke payare log

Mere naam ke jo Badal aaein, mere Basti pe barsa daina


Note: In order to avoid Spam comments, it will take sometime to appear your comments on website after you will post as Administrator have to approve it first. If you want to have Ghup Shup with your district fellows then please join us on    http://forum.mbdin.net   Please write your poetry and other moral lessons there. Here only short comments. Thx

Mirza Ikram Ullah wrote at 08.02.2010 13:29 mirzakool81@gmail.com

ايک دن عاصم اور اس کے بيوي بچوں نے فيصلہ کيا

رحلہ پر جانے کا

اور دنيا کي رانگينياں ديکھنے کا

ان کا سفر شروع ہوا ???


چلتے چلتے

راستے ميں

ايک شخص کھڑا ملا


عاصم نے پوچھا

تم کون ہو ؟؟


اس نے کہا ميں مال ہوں


عاصم نے اپنے بيوي بچون سے پوچھا

کيا خيال ہے ؟
کيا ہم اسے ساتھ بيٹھا ديں ؟؟

سب نے کہا

ضرور کيوں کے ہميں اس سفر ميں اس کي ضرورت پڑے گي

اور اس کي موجودگي ميں

ہم سب کچھ حاصل کرسکتے ہيں

عاصم نے مال کو بھي اپنے ساتھ بيٹھا ليا

اور ا?گے بڑھے


جب تھوڑا ا?گے گيے

تو

ايک اور شخص کھڑا نظر ا?يا

عاصم نے پھر پوچھا


تم کون ہو ؟؟؟


اس نے جواب ديا ميں

منصب و مقام ہوں


عاصم نے اپنے بيوي بچون سے پوچھا

کيا خيال ہے ؟

کيا ہم اسے ساتھ بيٹھا ديں ؟؟

سب نے کہا

ضرور کيوں نہيں ہميں اس سفر ميں اس کي ضرورت پڑے گي

اور دنيا کي لذتوں کا حصول اس کي موجودگي ميں بہت ا?سان ہو جايے گا

عاصم نے اسے بھي اپنے ساتھ بيٹھا ليا


اور مزيد ا?گے بڑھا


اس طرح اس سفر ميں بہت سے

قسم کے لذات و شہوات سے ملاقات ہوئي


عاصم سب کو ساتھ بيٹھاتا ا?گے بڑھتا رہا


ا?گے بھڑتے بھڑتے ايک اور شخص سے ملاقات ہوئي

عاصم نے پوچھا تو کون ہے ؟؟

اس نے جواب ديا ميں

دين

ہوں



عاصم نے اپنےبيوي بچوں سے پوچھا

کيا اسے بھي ساتھ بيٹھا ليں ؟

سب نے کہا

ابھي نہيں

يہ وقت دين کو ساتھ لے جانے کا نہيں ہے

ابھي ہم دنيا کي سير کرنے اور انجوئے

کرنے جارہے ہيں

اور دين ہم پر بلاوجہ ہزار پابندياں لگادے گا

پردہ کرو

حلال حرام ديکھو

نمازوں کي پابندي کرو

اور بھي بہت سي پابندياں لگا دے گا

اور ہماري لذتوں ميں رکاوٹ بنے گا

ہم انجوئے

نہيں کر سکيں گے

ليکن ايسا کرتے ہيں کہ رحلہ سے واپسي پر ہم اسے ساتھ بيٹھا ليں گے

اور اسطرح وہ دين کو پيچھے چھوڑ کر ا?گے بڑھ جاتے ہيں

چلتے چلتے

ا?گے

چيک پوسٹ ا?جاتا ہے

وہاں لکھا ہوتا ہے

stop

وہاں کھڑا شخص عاصم سے کہتا ہے کہ

وہ گاڑي سے اترے

عاصم گاڑي سے اترتا ہے

تو

وہ شخص اسے کہتا ہے

تمھارا سفر کا وقت ختم ہو چکا

مجھے تمھارے پاس

دين کي تفتيش کرني ہے

عاصم کہتا ہے
دين کو ميں کچھ ہي دوري پر چھوڑ ا?يا ہوں

مجھے اجازت دو ميں ابھي جاکر اسے ساتھ لاتا ہو

وہ شخص کہتا ہے

اب واپسي ناممکن ہے

تمھارا وقت ختم

ہو چکا

اب تمہيں ميرے ساتھ چلنا ہوگا

عاصم کہتا ہے

مگر ميرے ساتھ ماال منصب مقام اور بيوي بچے ہيں

وہ شخص کہتا ہے

اب

تمہيں تمھارا مال منصب اور اولاد

کوئي بھي اللہ کي پکڑ سے نہيں بچا سکتا


دين صرف تمھارے کام آسکتا تھا

جسے تم پيچھے چھوڑ ا? ئے

عاصم پوچھتا ہے

تم ہو کون ؟؟

وہ کہتا ہے

ميں


موووووووووووووت

ہوں

جس سے تم مکمل غافل تھے

اور عمل کو بھولے رہے




عاصم نے ڈرتي نظروں سے گاڑي کي طرف ديکھا



اس کے بيوي بچے اس کو اکيلے چھوڑ



کر مال و منصب کو لئے



کسي اور کے ساتھ اپنے سفرکو مکمل کرنے کے ليے ا?گے بڑھ گئے





اور کوئي ايک بھي عاصم کي مدد کے ليے اس کے ساتھ نہ اترا






آپ کے خالق کا فرمان ہے:



يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ

وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
[المنافقون : 9]





مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو اللہ کي ياد سے غافل نہ کردے?

اور جو ايسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہيں
(???)







اور جب کسي کي موت آجاتي ہے تو اللہ اس کو ہرگز مہلت نہيں ديتا

اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے
(????)









يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ



جس دن نہ مال ہي کچھ

فائدہ دے سکا گا اور نہ بيٹے




ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور

تم کو قيامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا ديا جائے گا?

تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گيا اور بہشت ميں داخل کيا گيا

وہ مراد کو پہنچ گيا اور دنيا کي زندگي تو دھوکے کا سامان ہے
(?????)





قال تعالى :





کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بيٹے اور بھائي اور عورتيں



اور خاندان کے آدمي اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو



اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کي راہ ميں جہاد کرنے سے تمہيں زيادہ عزيز ہوں



تو ٹھہرے رہو يہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (يعني عذاب) بھيجے?



اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدايت نہيں ديا کرتا
(????)





************ **

Mirza Ikram Ullah
Dubai

Saira Bano wrote at 06.02.2010 15:57 sairabano25@yahoo.com

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم دوستو

اچھے اخلاق اپنائیے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے ؛
'' سب سے بہتر اسلام اس شخص کا ہے جس کا اخلاق بلند ہو ۔''

ہمارے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید میں ہمیں بھی اچھے اخلاق اختیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اخلاق و اطوار نہایت اچھا نمونہ ہیں ۔
۔(الاحزاب ؛ ٢١)۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) عظیم خلق (پسندیدہ اخلاق) کے مالک ہیں ۔
۔(القلم ؛ ٤)۔

بھلائی کے تعلق سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اخلاق کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے ؛
لوگو ! تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف اُن (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بہت گراں معلوم ہوتی ہے۔ تمہاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں اور ایمان لانے والوں پر نہایت شفقت کرنے والے اور مہربان ہیں ۔
۔(التوبہ ؛ ١٢٨)۔

اچھے اخلاق کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ انسان گھر والوں سے اچھا سلوک کرے اور ان کی آخرت اور دنیا کی بھلائی کی فکر کرے۔

چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ارشادِ گرامی ہے ؛
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرتا ہو اور اپنے اہل و عیال کا بہت خیال رکھتا ہو ۔

قرابت داروں کے بعد عام انسانوں سے حسن سلوک کیا جانا چاہئے ۔ اسی تعلق سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے ؛
'' تم میں سب سے بہتر خوش اخلاق انسان وہ ہے جو لوگوں سے ملتا ہے اور لوگ اس سے ملتے ہیں ۔''
یہاں بہترین اور خوش اخلاق انسان کی مثال ایسے شخص سے دی جارہی ہے جو دوسروں سے ملتا ہے اور احسن طریقے سے بات کرتا ہے۔

ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ؛
'' انسانوں کا بہی خواہ اور ہمدرد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ۔''

انسانوں کا بہی خواہ چونکہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے اُن سے ہمدردی کرتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ بھی اُس سے ہمدردی کرتا ہے ۔

Allah hafiz

ILYAS wrote at 06.02.2010 15:30 ilyasahmedwattoo@yahoo.com

BEAUTIFUL PRAYER
O GOD... Enlighten what is Dark in Me, Strengthen what is Weak in Me, Mend what is Broken in Me, Bind what is Bruised in Me, Heal what is Sick in Me, Straighten what is Crooked in Me and Revive whatever Peace and Love has Died in Me..! Amenent

Mirza Ikram Ullah wrote at 06.02.2010 15:08 mirzakool81@gmail.com

Assalam O Alaykum


ابو ھریرۃ رضي الله عنه سے روایت ہے

" ایک شخص ساٹھ سال تک نماز پڑھتا ہے

مگر اسکی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی"

پوچھا گیا : وہ کیسے ؟؟

انہوں نے کہا : کیونکہ نہ وہ اپنا رکوع پورا کرتاہے اور نا سجود

نا قیام پورا کرتا ہے نا اس کی نماز میں خشوع ہوتا ہے

حضرت عمر رضي الله عنه نے فرمایا :
ایک شخص اسلام میں بوڑھا ہوگیا
اور ایک رکعت بھی اسنے اللہ کے لیے مکمل نہیں پڑھی

پوچھا گیا کیسے یا امیر المومنین ؟
فرمایا :

اسنے نا اپنا رکوع پورا کیا اور نا سجود

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا
ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا"

لوگ نماز پڑھیں گے مگر انکی نماز نہیں ہوگی

اور مجھے ڈر ہے کہ وہ زمانہ یہی زمانہ ہے"


امام اگر آج کا زمانہ آکر دیکھ سکتے تو کیا کہتے ؟؟

امام غزالی رحمه الله نے فرمایا:

ایک شخص سجدہ کرتا ہے اس خیال سے کہ اس سجدہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرے گا
اس اللہ کی قسم اگر اس کے اس سجدے کا گناہ تقسیم کیا جائے تو سارا بلد ھلاک کر دیا جائے
پوچھا گیا وہ کیسے ؟؟


فرمایا:

وہ اپنا سر اپنے اللہ کے سامنے جھکاتا ہے

مگر اپنے نفس ،گناہوں، اپنی شہوات اور دنیا کی محبت میں مصروف ہوتا ہے
تو یہ کیسا سجدہ ہے ؟؟؟
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

میری آنکھون کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے

تو کیا کبھی آپ نے ایسی نماز پڑھی جو آپکے آنکھوں کی ٹھنڈک بنی ہو ؟؟؟
کیا کبھی آپ گھر کی طرف تیزی سے پلٹے صرف دو رکعت کی ادائیگی کی نیت سے ؟؟


کیا کبھی نماز کی محبت نے آپ کو بے چین کیا ؟؟
کیا کبھی آپ نماز کے لیے ترسے ؟؟

کیا کبھی آپ نے رات کا بے چینی سے انتظار کیا

تاکہ آپ اپنے رب کے ساتھ اکیلے نماز میں ملاقات کر سکیں ؟؟
اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے :

(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))
کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟


ابن مسعود رضي الله عنه فرماتے ہیں

ہمارے اسلام لانے کے چار سال بعد یہ آیت نازل ہوئی
اس ایت میں اللہ سبحانہ نے ہم سے شکایت کی

ہم سب بہت رویے

اپنے قلۃ خشوع پر

پھر ہم گھروں سے نکلتے تو ایک دوسرے کو عتاب کرتے اور کہتے
کیا تم نے اللہ سبحانہ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟؟؟

(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))
کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟

تو لوگ گر جاتے اور رونے لگتے

اللہ کے اس عتاب پر

تو کیا کبھی آپ نے یہ محسوس کیا اس آیت سے؟؟

کہ اللہ تعالی آپ سے شکوہ کر رہا ہے ؟؟



اپنی نمازوں کو ضائع ہونے سے بچائیں

Mirza Ikram Ullah
Dubai, UAE

Humayun Gondal wrote at 05.02.2010 17:56 humayun1980@hotmail.com

Assalam-o-Alekam janabb, Sir there is always some problem with HAMARA FM..... HAMARA FM aik din onair ata he to 2 din close rheta he....some time 10 mints ke lye suna jata he aur baki day close rheta he.please solv this problem.....

zahid.m wrote at 05.02.2010 09:36 zahid.m197@yahoo.com

kitab-e-mazi ke auraq ulat ke dekh zara? na janne kon sa safaah muraa huaa nikley

naila gondal wrote at 05.02.2010 09:35 naila.lili@yahoo.com


mujh main nahi h aiab kaste main ayab thy
mera ha ye kasoor k prkha gia ghalat


AoA
to all mbdin.aj ap ki towaja ap ki apne janbi delani h.ap jo khud main zamm han.ap nahi janty ap ko kia krna h kahan jana h kia kr rahy han.hum samjhty han log apne kasote say humain prkhty ha.warna tu hum mainkoi bhi ayab nahi.sometime aesa hota h k ap ko ghalat prkha jata h.lykin hum khud confused log han nahi janty hum ko kia krna hiss double standard society main double standrd log han.apny liay khuch or dosron k liay khuch or kabhi apna Ahtasab hi nahi kia sare responsibilty dosron pa daal dayty han .humary asool jo sirf humary liay han jub kise dosry ki baat ate h asool bohool jaty han aj tk koi asoolon k dawaydar ko asool nibhaty nahi daykha.iss confused society ka confused rules.aaiy Adat dalty han apna Ahtasab krny ki ta k hum double standard kirdar na bnain asy kirdaron nay islam or pakistan ko tbha kr dia h.assy log islam ko apny mafad k liay istaml krty han.kia ap nahi krty jahan apna mafad dekha islam ko samny ly ay or jub zarorat pare islam sy nazrain chora le.think about it .Allah hum ko amal krny ki toufiq day ameen.

m s saqi wrote at 22.10.2009 17:44 saqibrothers2000@yahoo.com

assalam o alikum my PAKISTAN & M B DIN ,,,,,,,,,,,,,,,,,,, doston kia hal hai ? lagta hai MANDI wale kanjoos ho gae hai kyun ?? yaar site peh thori roonaq too honi chahiay na ,,,,,,,,,,,,,,,, jo dost bhi likhtay hai bas aik aadhi baat likhi aur gae ,,,,,,,,,,,,,,,,, is tarha banda bheera lagta hai ,,,,,,,,,,,,,, kyun koi apni baat bhi too ho sakti hai ,,,,,,,,, chaloo phir bhi theek hai koi itna bhi likhta too hai .......................................................................................................................................................................... ....Yeh Bazm-E-Geyr Hai Wo HumKalaam Kia Hoga..!

K is k Siwa aur Intiqaam Kia Hoga..!

Yeh Umar Bhar Ki Kahani Hai Phir Sunaien Gai..!

Ab Ek Shab Mai Yeh Qissa Tamaam Kia Hoga..!

yahan to raat Ka Pehla Pehar Qayamat Hai..!

Shab-E-Firaq Tyra Ikhtitaam Kia Hoga..!
,,,,,,,,ALLAH HAFIZ.....saqi from korea

ahmed898 wrote at 16.08.2009 20:22 ahmedyargondal@yahoo.co.uk

It is important in a developing economy that all people see the opportunity that reforms bring in. In an uneven economy, with great disparities, many people cannot see that opportunity — say access to education. So, the ability to benefit from these opportunities is very uneven and many people face tremendous cost and only few benefit from it. This is the crab analogy. So, the message is reforms can succeed if you take everybody along with you and if you have broadened the axis.
ahmed gondal gojra mbdin
italy brescia

tarar wrote at 04.03.2007 23:16 tararqamar@hotmail.com mbdin.net

Plz share your comments here

Opens internal link in current windowRead More Comments